Literature Books

  • Showing all 11 results

600.00

ہر زندگی، خواہ وہ فرد کی ہو یا قوم کی، وقت کے ایک خاص دورانیے کے بعد ایک خاص ڈھرے پر چلنے کی عادی ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ یہی اندازِ زیست اس کے لیے تقدس حاصل کر لیتا ہے۔ اس تقدس کی چھان پھٹک ضروری ہوتی ہے، تاکہ اصل کو فرع سے، اہم کو غیر اہم سے اور اصول کو فضول سے دور رکھا جا سکے۔ سجاول خان رانجھا نے ان مکالمات میں یہی فریضہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے معاصر عہد کی ایسی شخصیات کو منتخب کیاہے جن کی دلچسپیاں متنوع اور وابستگی مختلف شعبہ ہائے حیات سےہے۔ اور جو اپنےاپنے شعبے میں اختصاص رکھتے ہیں اور اس بارے میں غور و فکر کے عادی ہیں۔ اس نیرنگی نے کتاب کے مندرجات کو ہر قسم کا ذوق رکھنے والےقارئین کے لیے دلچسپی کا سامان بنا دیا ہے۔

شاہد اعوان

400.00

سرمایہ داری نظام میں کامیابی اور ناکامی کے تصورات کو جس طرح انسان کے اخلاقی آدرشوں سے لاتعلق کیا گیا ہے، اس سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیا کو اصطبل بنایا جا رہا ہے جہاں گھوڑوں کو یہ باور کروایا جائے گا کہ تم انسان کی ارتقایافتہ شکل ہو۔ کامیابی کے گر بتانے والے کرتب بازوں کی پوری کھیپ، انسانیت سے رضاکارانہ دستبرداری کو ایک مقدس مشن بنا کر ہمیں ریس کا گھوڑا بننے پر آمادہ کرنے نکلے ہیں۔

(احمد جاوید)

390.00

شخصیت سازی اور Self Help کے موضوع پر دستیاب بے شمار مقامی اور غیر ملکی کتابوں کے باوجود اس موضوع پر یہ کتاب منفرد اور اثر انگیز ہے۔ اس کی وجہ مصنف کا اپنی ذات کو نمونہ بنا کر اپنے مقامی ماحول اور ماضی سے زندہ اور سچی مثالوں کے ذریعہ تحریک پیدا کرنے کا وصف ہے۔

670.00

بہت سوں کے لئے ناسٹلجیا ہے کہ فضا میں سفر کا چلن عام ہو چلا اور زمین زادوں کی دھرتی سے جڑت کمزور پڑتی گئی۔ ریل کی سیٹی کی آواز، دخانی انجن کا دھواں، انجن کی دھمک اور چھک چھک کی موسیقیت کے ساتھ گذشتہ کئی نسلوں کی زندگی جڑی ہوئی تھی۔ خوشی اور غم کی یادہو یا کاروباری و تفریحی سفر کی بات، دھرتی کے سینے سے چمٹی یہ دو آھنی لکیریں محض رستہ نہیں ایک بھر پور معنویت کے ساتھ زندگی اور ترقی کا استعارہ تھیں

شاہد اعوان

400.00

The territory that now constitutes Pakistan was previously home to several ancient cultures, including the Mehrgarh of the Neolithic and the Bronze Age Indus Valley Civilisation, and was later home to kingdoms ruled by people of different faiths and cultures, including Hindus, Indo-Greeks, Muslims, Turco-Mongols, Afghans and Sikhs. The area has been ruled by numerous empires and dynasties, including the Indian Mauryan Empire, the Persian Achaemenid Empire, Alexander of Macedonia, the Arab Umayyad Caliphate, the Mongol Empire, the Mughal Empire, the Durrani Empire, the Sikh Empire and the British Empire. As a result of the Pakistan Movement led by Muhammad Ali Jinnah and the subcontinent’s struggle for independence, Pakistan was created in 1947 as an independent nation for Muslims from the regions in the east and west of Subcontinent where there was a Muslim majority. Initially a dominion, Pakistan adopted a new constitution in 1956, becoming an Islamic republic. A civil war in 1971 resulted in the secession of East Pakistan as the new country of Bangladesh.

450.00

Barf Ki Aurat is anthology of Urdu short stories of Ms. Shaheen Kazmi, a Pakistani Fictin Writer, based in Switzerland.

 

برف کی عورت، ایمل مطبوعات کی جانب سے شائع ہونے والی افسانوں کی پہلی کتاب ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ آغاز محترمہ شاہین کاظمی کی خوبصورت تخلیقات سے ہورہا ہے۔
شاہین کاظمی نے ان افسانوں میں اپنے تخلیقی وفور اور فنی مہارت سے نسوانی محسوسات اور مسائل کو اس طرح اجالا ہے کہ صنفی امتیاز کاشائبہ تک نہیں ہوتا اورمسائل خالص انسانی سطح پہ ظہور کرتے ہوئے قاری کے ضمیر کو مخاطب کرتے ہیں۔ مصنفہ نے صنفی تقسیم سے ماورا ہو کر نسوانی جذبات کو اتنی خوبصورتی سے زبان دی ہےکہ قاری دوران مطالعہ اپنی عورت یا مرد کی حیثیت بھو ل کرکہانی کے ساتھ بہنے لگتا ہے اور افسانے کے کردار وں کی زندگی جینے لگتا ہے۔ یہی مصنفہ کے فن کی معراج اور تخلیقی اپج کا حاصل ہے۔اپنے وطن اور لوگوں سے دور رہ کر انکے بارے میں اس شدت اور گہرائی سے محسوس کرنا شاید ترک وطن کا وہ حاصل ہے جس سے حظ اندوزی اہل وطن کےحصہ میں آتی ہے۔
بصری فکشن کے اس دور میںکتاب کے صفحہ سے اپنے ذاتی تخیل تک سفر کرنا اس صنف کا وہ مقصود ہے جس سے آج کا انسان تیزی سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ اس دور میں کہ جب اردو دنیا میں کتاب سے تعلق “کتابی” سا ہو چلا ہے، اپنے ماحول سے ماخوذ اورمعاشرہ سے جڑی ایسی کہانیاںقاری کو کتاب سے جوڑنے میں معاون ہوں گی۔

Shahid Awan

580.00

کے آغاز میں سات، آٹھ، دس بارہ سالہ بچوں کے یہ خطوط اس عزم کا بین ثبوت ہیں کہ قیام پاکستان ناگزیر تھا، یہ قدرت کا اٹل فیصلہ تھا اور اسے معرضِ وجود میں آنے سے روکا نہیں جا سکتاتھا۔  ان میں سے ہر خط معصوم جذبوں کا بہتا چشمہ اور روشنی کا مینار ہے۔ ان معصوم جذبوں کی یہی روشنی تخلیق پاکستان کا باعث بنی اور اسی خلوص نے قائد اعظمؒ اور پاکستان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

 ڈاکٹر صفدر محمود